وقت، حالات اور انسان​

وقت، حالات اور انسان​
  • Post last modified:April 26, 2021
  • Post category:Blogs
  • Post comments:0 Comments
  • Reading time:0 mins read

 

وقت اور حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، بہت کچھ بدل جاتا ہے. کبھی دھوپ ہے تو کبھی چھاؤں لیکن زندگی رکتی نہیں چلتی رہتی ہے. بچپن سے یہ جملہ کئی بار سماعتوں سے گزرا لیکن احساس تب ہوتا ہے جب آپ ایسے وقت کا سامنا کرتے ہیں. کبھی کبھی انسان اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ہر چیز بیکار محسوس ہوتی ہے . کسی چیز کسی کام میں دل نہیں لگتا اپنے چاروں طرف لوگوں کا ہجوم تو نظر آتا ہے ،مگر اپنے اندر ویران اور خالی پن محسوس ہوتا ہے.
اتار چڑھاؤ تو سبھی کی زندگیوں میں آتے ہیں مگر کچھ لوگ با ہمت ہوتے ہیں جو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت و حالات کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں. مگر حساس لوگ شیشے کی مانند ذرا سی ٹھوکر سے کرچی کرچی ہو جاتے ہیں. سنبھلتے سمبھلتے دیر لگتی ہے، مگر اپنے اندر بہت سے طوفانوں کا مقابلہ کرتے ہوئے سفر کی جانب بڑھتے چلے جاتے ہیں. کہتے ہیں کہ آپ کس قدر بہادر ہیں یہ وقت کے ساتھ پتہ چلتا ہے جب آپ کسی حادثے کا شکار ہوں اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تب آہستہ آہستہ زندگی کی تلخ حقیقت کو منظور کرنا اور اس سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہی ہمت و بہادری ہے.!

اور بھی پڑھئے: انگریزی یا کوئی دوسری زبان بولنا کیسا ہے؟

وقت اپنے ساتھ جیسے پر لگائے اپنی پرواز اڑے چلے جاتا ہے. جیسے ہاتھوں میں ریت کا ہونا اور چھوٹتے جانا ،اس سے بڑی مثال کوئی اور ہے بھی نہیں. یہ کبھی کسی کے لئے رکتا نہیں اور نہ ہی کسی کا انتظار کرتا ہے. کسی کی زندگی میں بہار ہے تو کوئی حزاں کے درد سے لبریز خود کو گھسیٹتا ہے. کوئی عروج کی چمک سے منور ہے، تو کوئی زوال کے دائرے میں گھرا کٹھن وقت کا سامنا کرتے نظر آتا ہے، یعنی سب اپنے اپنے مقدر کے لکھے کو وقت کے بہتے دریا کے ساتھ گزارتے چلے جاتے ہیں۔ عقل و شعور کا ثبوت یہی ہے کے عروج میں عاجزی انکساری، خدمتِ خلق کو ہاتھ سے نہ جانے دے اور کٹھن وقت میں باہمت ،دیدہ دلیری صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچھے وقت کا انتظار کرے. کیونکہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا ،گزرتے لمحوں سے سیکھتے ہوئے آنے والے اچھے کل کی امید کو سینے سے لگائے آگے بڑھتے رہنا چاہیے۔۔

بلندی سی بلندی بھی دیکھا گیا ہے
کون اپنا ہے کون پرایا یہ بھی سکھا گیا ہے
وقت تجھ سا ظالم بھی نہیں ہے کوئی
جاتے جاتے ہی سہی پر بہت کچھ سمجھا گیا ہے


Sanna Fayyaz



ثناء فیاض

Leave a Reply