TheSecretOfSufferingPost
Abdullah Akbar

Abdullah Akbar

تکلیف کا راز

انسانی نفس کی فطرت ہے وہ تکلیف سے ہر لمحہ ہر لحظہ بڑا خائف رہتا ہے تکلیف کو پسند کرنا انسانی فطرت نہیں انسان ہمیشہ اس سے بھاگتا ہے ایک غیر تربیت یافتہ شخص کبھی اس بات سے باخبر نہیں ہو سکتا کے تکلیف تو انسان کی اندر کی چیز ہے یہ کوئی باہری آفت نہیں ہے۔

تکلیف ایک حفاظتی نظام ہے جو انسانی نفس میں ایک نصب شدہ پریزرویٹوہے جیسے عموماً ہم دوا خریدتے ہیں اور اس میں ایک تھیلی ہوتی ہے جس میں چھوٹے چھوٹے دانے ہوتے ہیں اور وہ پڑیا اس لیے دوا کہ  اندر رکھی جاتی ہے کے دوا خراب نا ہو اپنی حالت پہ قائم رہے اسکو پریزرویٹو کہتے ہیں اور تکلیف انسانی جسم میں اسی پڑیا کا کر رہی ہے جو انسان کے جسم اور نفس کو اس دنیا میں محفوظ کئے ہوئے ہے تکلیف سے زندگی اس سیارے پہ قائم ہے کہ جس میں انسان کو اس دنیا میں دوسرے جانداروں کو پہ فوقیت اور حکمرانی کی وجہ بنا ہے اس کے پیچھے چھپنے والا راز یہی تکلیف ہی ہے۔

میں آپکو یہ ساری بات ایک مثال لے ساتھ سمجھتا ہوں اور امید ہے آپ اسکو ضرور سمجھ جائیں گے

جانداروں میں جانوروں کے اندر تکلف کا عنصر تو موجود ہے مگر بہت کم عرصے کے لیے بہت کم لمحوں کے لیے ہوتا ہے ایک عارضی سا احساس ہے جو جانور کو محسوس ہوتا ہے جو ان کے فوری رد عمل سے ہمیں محسوس ہوتی ہے جو انکا فوری کا رد عمل ہوتا ہے بعد میں وہ اسکو فوری بھول جاتا ہے یہ چیز جانداروں میں قسمت کی ستم ظریفی کہہ لیں یا جو بھی ورنہ اندازہ کریں کے گدھے کو اگر تکلف مستقل طور پہ محسوس ہو تو کسی کے اندر اتنی ہمت نا ہو کے کوئی اس پہ سواری کر سکے

تکلیف کا علم اور اس سے باخبری اس چیز سے باخبر ہونا انسان کو اپنی زندگی کی حفاظت پہ قائل کرتا ہے تکلیف ک علم انسان کے گہرے شعور کی نشانی ہے

جیسا کے ہم بازاروں میں دیکھتے ہیں لوگ اپنی اپنی جہت اور سمت بچ بچ کے چل رہے ہوتے ہیں کوئی کوئی گاڑی یا بائیک ٹکر نا مار دے یا کوئی پاؤں پہ نا چڑھا دے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو لوگوں کے چہرؤں کے بدلتے تاثرات ہمیں بتا دیتے ہیں

اگر انسان کو حادثوں اور تکلیفوں کی فکر نا ہوتی تو وہ کبھی راستے نا بناتے کبھی بھی اپنی جہت اور سمت نا چلتے کبھی بھی احتیاطی تدابیر کو اختیار نا کرتے نا کوئی ڈاکٹر ہوتا نا کوئی ہسپتال ہوتا

آپ کو معلوم ہے ہم بال کیوں کٹواتے ہیں ؟ یا اس لیے کہ یہ سب کٹواتے ہیں ؟ اسی طرح ناخنوں کا اگلا حصہ کیونکہ ان میں تکلیف ک کوئی عنصر موجود نہیں اگر ان میں وہ چیز ہوتی تو کم کیوں کٹواتے اور ان کی ڈیزائننگ کرواتے

یہ تکلف کا خوف ہی ہے کے اس اتنی مصروف اور مشینری سے بھری دنیا میں ہم اپنے آپ کو بچاتے پھرتے ہیں بچانے میں مصروف ہیں یہ ایسے ای ہے کہ شیشے کا بنا ہوا انسان اپنے آپ کو پتھروں سے بچانے میں مصروف رہے ایسا کرنے سے وہ کچھ دیر تو جینے میں کامیاب ہو جانا ممکن ہے لیکن ہمیشہ ٹوٹ جانے کی تکلیف سے ہمیشہ خائف رہے گا تکلف کو فنا کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ تکلیف موت کا لباس ہے اور موت اس کے لبادے مین چھپی ہر وقت ہمارے ساتھ ساتھ منڈلا رہی ہے

انسانوں میں سے دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں

ایک وہ لوگ جو تکلیف کے آنے کے بعد اپنے مستقبل مین بھی اسی تکلیف کے ساتھ گزارنے کا خوف دیکھ چکے ہوتے ہیں

اور دوسرے وہ لوگ جو تکلیف کو وقتی آزمائش دیکھتے ہوئے حال میں اس کے ساتھ لڑتے ہیں اس کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی تکلیف جے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد کرتے ہیں کہ یہ تکلیف عارضی ہے آج ہے کل نہیں ہے

میں ایک مثال دیتا ہوں مطلب جیسے ایک بندے کو حادثہ پیش آ گیا اور اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی اور فوری اس نے ڈاکٹرز کو چیک کروایا بڑی بڑی اینٹی بائیوٹک گولیاں پھانک لیں اور اس کے دماغ نے یہ فیصلہ کیا کے اب بیٹا تو اسی بیماری سے مرے گا ہو سکتا تیری ٹانگ ٹھیک نا ہو تیرا کیا پتہ تو اسی کے ساتھ ٹانگ میں آنے والے زخم کو ٹھیک نا کروا سکے اور اس سے کینسر پیدا ہو جائے اور انتہا یہ ہو کے تو اسی کینسر کے ساتھ مرے گا ایک بندہ یہ خود کلامی کرتا ہے کیا حقیقت نہیں کہ اکثر انسان کو سانپ کے کاٹنے سے نہیں بلکہ اس کی دہشت سے مر جاتے ہیں

ہونا تو یہ چاھئے کے انسان کی ٹانگ ٹوٹی اسکا درد ہی بڑا ہے ایک درد وقتی طور پہ ہو رہا دوسرا وہ اسی لمحوں میں مستقبل مین بھی اسی بیماری کا ساتھ سوچ سوچ کے محسوس کر رہا اور اسے صبر سی ہی براداشت  کرنا بہت بڑی خوبی ہے

درد کا سامنا وقار کے ساتھ حوصلے کے ساتھ کرنا چاھئے ہمارے جسم میں تکلیف برداشت کرنے کی بڑی بےپناہ صلاحیت ہے اسی صلاحیت سے اپنے قوت مدافعت کو استعمال کرتے ہوئے جسم خود کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت سے قدرتی طور پہ مالامال ہے اپنے جسم کو آزمانا چاھئے کہ درد اور تکلیف کو کہاں تک برداشت کیا جا سکتا ہے۔  

دیکھیں!!! علاج بہت ضروری ہے اس سے لاپرواہی ہرگز دانشمندی نہیں اور نا ہی ایسا مشورہ دیا جا رہا

بات صرف یہ ہے کہ تکلیف درد کی ابتدائی علامات کو ابتدائی طور پہ برداشت کرنے کا ہنر آنا چاھئے اپنے جسم جی بات سنیں اور اسے سمجھیں

یہ بہت بڑا فن ہے یہ بہت بڑی نعمت ہے آپ کا جسم آپ کو خود بتاتا ہے  کہ کیا کرنا ہے اس کی بات غور سے سنیں یہ آپ کو اپنے بارے کچھ بتانا چاھتا ہے اس کی سنا کریں

تکلیف کا اور انسان کا ایک اور بھی بڑا اہم رشتہ ہے کہ تکلیف کے بغیر کوئی انسان کچھ بھی نہیں سیکھ سکتا اللہ انسان کو جو بھی دیتا ہے اس کے لیے انسان کو تکلیف اور دباو سے گزرنا پڑتا ہے

اب بچے کی پیدائش کو ای دیکھ لیں یہ ایک دن میں ناممکن ہے بطن مادر میں اتنی گنجائش ای نہیں یوں آہستہ آہستہ اس کے جسم سے اور نفس میں آنے والے بچے کے لیے وسعت پیدا ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ ماں انتہائی مشکل اور تکلیف کے باوجود اپنے بچے کو جنم دینے جے کیے تیار ہو جاتی ہے یہی وہ وجہ ہے کہ جو محبت اسے اپنے بچے سے ہوتی ہے اور وہ دوسرے کے لئے پیش کرنا ناممکن ہے اس محبت اور ممتا کے پا پردہ شدید تکلیف اور دباو ہے

آپ اپنی زندگی کا مطالعہ کریں آپ کو اپنی کامیابیوں کے پیچھے طویل ناکامیاں ریاضت تکلیف اور بےپناہ دباو نظر آئے گا یہ قدرت کا اصول ہے جتنا بھی ہم پر دباو پڑتا ہے اس کا صاف مطلب یہی ہوتا ہے کہ کوئی نئی عطاء ظہور پزیر ہونے والی

یہ بھی تکلیف کا ایک چہرہ ہے ہر تکلیف کےپس پردہ رب کائنات کی رحمت چھپی ہوتی ہے تکلیف اللہ کی اپنے بندے سے محبت کی نشانی ہے

کیونکہ تکلیف اگر برت شے ہے تو انبیاء پہ کبھی نا آتی

إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے

Hey! We Need Your Help..

We need your help in this cause. Pakistan needs you in 5th Generation warfare, Muslim Unity, Love, Peace, and Harmony. If you are Blogger, Vlogger, Author, Social Media Influencer, Graphic Designer, or anything which can help us and Pakistan by any necessary means, join us today.

You Might Also Like

کسان، کھیتی اور کوا

Sarfraz Malik @sarfrazmaliik کسان، کھیتی اور کوا جب میں چھوٹا سا تھا تو اپنے گاؤں میں اکثر دیکھتا تھا کہ جہاں پر نئی فصل کاشت...

Read More

وقت، حالات اور انسان​

Sanna Fayyaz وقت، حالات اور انسان وقت اور حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے، بہت کچھ بدل جاتا ہے. کبھی دھوپ ہے تو کبھی چھاؤں لیکن...

Read More

Leave a Reply