کسان، کھیتی اور کوا

کسان، کھیتی اور کوا
  • Post last modified:April 26, 2021
  • Post category:Blogs
  • Post comments:0 Comments
  • Reading time:1 mins read

جب میں چھوٹا سا تھا تو اپنے گاؤں میں اکثر دیکھتا تھا کہ جہاں پر نئی فصل کاشت کی جاتی تھی وہاں پر ایک مردہ کوے کو لکڑی کے ڈنڈے کے ساتھ باندھ کر الٹا لٹکایا ہوا ہوتا تھا تب میں یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو جاتا تھا کہ پتہ نہیں اس کوے کو مار کر یہاں کیوں لٹکایا گیا ہے اس نے کیا قصور کیا ہے اور یہاں کھیتوں میں اس مردہ کوے کو الٹا لٹکانے کا کیا مقصد ہے تب مجھے اس بارے میں کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔

لیکن وقت گزرتا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ مادی دنیا کے تلخ حقائق سے پردے اٹھتے گئے تو میں اس حقیقت سے بھی آشنا ہو گیا کہ جب کسان اپنی زمین میں فصل اگانے کے لیے بیج بوتا تھا تو کوے اس زمین میں بوۓ ہوئے بیجوں کو کھا جاتے تھے لہٰذا جب بیج ہی کوے کھا جاتے تھے تو فصل نہیں اگتی تھی اور جب فصل ہی نہیں اگتی تھی تو اناج ہی نہیں ہوتا تھا اور جب اناج ہی میسر نہ ہو تو انسان کا زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اور بھی پڑھئے: وقت، حالات اور انسان​

لہٰذا کسان نے اس مشکل صورتحال کے تدارک کیلئے ایک انوکھا فیصلہ کیا اور ان بیج کھانے والے کوؤں میں سے ایک کو مار کر ڈنڈے کے ساتھ الٹا باندھ کر سرِعام کھیتوں میں لٹکا دیا تاکہ باقی کوؤں کو عبرت حاصل ہو اور انھیں پتہ چل جائے کہ اگر کھیتوں میں بوۓ ہوئے بیجوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو کسان ہمیں مار اسی طرح الٹا لٹکا دے گا۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جس زمین میں کسان بیج بوۓ اور وہاں پر ایک کوۓ کو مار کر الٹا لٹکا دے تو اُس فصل کی طرف باقی کوۓ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے انھیں اس بات کا اچھی طرح ادراک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسان کی فصل کو نقصان پہنچائیں گے تو کسان ان کو بھی مار کر سرِعام الٹا لٹکا دے گا اور باقیوں کےلیے عبرت کا نشان بنا دے گا۔-

اللّٰہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے کہ

“تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں۔”

اگر کسان اپنی کھیتی کو بچانے کے لیے کوۓ کو مار کر سرِعام الٹا لٹکا سکتا ہے تو کیا ہم سب اپنی کھیتیوں کو بچانے کے لیے درندوں کو مار کر سرِعام الٹا کیوں نہیں لٹکا سکتے؟ چھوٹے بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچا سکتے؟ ہم اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کیوں نہیں کر سکتے؟ کب تک ننھی کلیاں مسلتی رہیں گی؟

ہمیں اپنے بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے درندوں کو روکنا ہو گا انھیں عبرتناک سزائیں دے کر عبرت کا نشان بنانا ہو گا، ہم اس اسلامی ریاست میں بچوں کے سامنے ماؤں کی عزتیں پامال ہوتا نہیں دیکھ سکتے اب ساری قوم کی آواز ہے کہ حکومت ان درندوں کو سرِعام پھانسی کی سزائیں دے اور چوک چوراہوں پر الٹا لٹکا کر درندوں کو عبرت کا نشان بناۓ۔

Sarfraz Malik
Writer and social media activist at Bring A Change.



سرفراز ملک
@sarfrazmaliik

Leave a Reply