MyRequestAbdullahQamarPost
Abdullah Qamar

Abdullah Qamar

اہل الرائے سے میری گزارش

اس زمین پر موجود ہر نارمل انسان سوچنے یی صلاحیت رکھتا ہے، وہ اس زمین پر گھومتا پھرتا ہے، سیر کرتا ہے اور بے شمار چیزیں اس کے مشاہدے میں آتی ہیں اور کئی واقعات اور تجربات اس کے ساتھ پیش آتے ہیں جو کہ اس کی سوچ کی سمت کا تعین کرنے میں ایک بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔

اس طرح سے ہر شخص کا اپنا ایک نقطۂ نظر اور سوچنے کا زاویہ بن جاتا ہے. وہ اسی زاویے سے اپنے ارد گرد جاری کہانیوں اور رونما ہونے والے واقعات میں سچ/جھوٹ، صحیح/غلط، آخلاق/غیر اخلاقی اور دیگر عناصر کے تناسب کو پرکھ کر اس سے متعلق ایک رائے قائم کرتا ہے. وہ رائے اس شخص کے علم، تجربے اور زاویہ سوچ کے تحت ہو گی. یہاں تک کوئی مسئلے کی بات نہیں ہر شخص اپنی ذاتی رائے قائم کرنے کا حق دار ہے.مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب کوئی ایک دوسروں پر اپنی رائے مسلط کرنا شروع کرتا ہے (بغیر صحیح ثابت کیے). جب بھی کوئی اپنی ذاتی کسی کی مرضی کے خلاف اس پر مسلط کرنے کی کوشش کرے گا اس نہ صرف اختلاف بڑھیں گے بلکہ ایک جھگڑا شروع اور جائے اور  نفرت کے بیج کو نشوونما کے لیے ضروری لوازمات بہم میسر آ جائیں گے۔

لہٰذا ہمیشہ اپنی ذاتی رائے اور تجزیے کو نرمی اور احترام کے ساتھ منطقی انداز میں پیش کریں. اگر کوئی آپ کی رائے کے ساتھ متفق نہ ہو تو اس بنیاد پر اسے برا جانیں بلکہ اس کا حق ہے. جس طرح آپ نے اپنی ذاتی رائے/ تجزیہ قائم اور اس کے اظہار کے اخلاقی حق کو استعمال کیا اسی طرح باقی لوگ بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے اختلاف کر سکیں. اسی طرح جب بھی کسی کی رائے سے اختلاف کریں تو احسن اور سلجھے ہوئے انداز میں دلیل اور تمیز کے ساتھ کریں نہ تذلیل اور تحقیر کے ساتھ۔

You Might Also Like

Book – A companion

Books are considered as the best companion of human being. A person without a book is said to be incomplete and at loss. With an...

Read More

Outbreak of Covid-19

The outbreak of COVID -19 was begun in December 2019 in Wuhan, China which has been now dispersing rapidly in the world. In January 2020...

Read More

5 ways to cure acne

Acne is a standard skin disease that affects almost 80% of individuals at some point in their life. It can cause various sorts of blemish...

Read More

Leave a Reply